မတရားဖိႏွိပ္ခံရဆုံးမွာ ရုိဟင္ဂ်ာမြတ္္ဆလင္ دنیاکے سب سے مظلوم ترین برمی مسلمان

دنیاکے سب سے مظلوم ترین برمی مسلمان

انہیں کشتی میں سفر کرتے 25دن ھوچکے تھے لیکن منزل تو کیا،زمین کاکہیں نام ونشان بھی ان کے سامنے نہیں تھا…….
کشتی بہت چھوٹی ،کمزور اور تنگ تھی اوراس میں سوارنو عمروں کی تعدادبارہ تھی.وہ اپنے ساتھ اپنی بساط کے مطابق زیادہ سے زیادہ کھانے پینے کاسامان لے کرنکلے تھے لیکن اب تووہ بھی ختم ھوچکاتھاجس کے بعد اب مسلسل بھوک ھی ان کامقدرتھی. کھلاآسمان،چہار اطراف تاحدنگاہ پانی ہی پانی اورپھراس میں اس قدر موجیں کہ یوں لگے جیسے کشتی ابھی الٹی کہ ابھی الٹی اور پھر….ساتھ ہی یہ خیال کہ اگر یہاں سمندرکی موجوں کانشانہ بنے تو شایدمچھلیوں کاپیٹ ہی ھماری قبر بنے ….نہ دن کو چین نہ رات کو سکون….اورپھر ساتھ ہی کھلے سمندرمیں بار باربرستی بارش نےبھی انہیں بے حال کردیا.
اچانک انہیں دورکچھ سبزہ سادکھائی دیاتو سب کی آنکھوں میں امید کی چمک کے ساتھ جسموں میں نئ توانائی پیداھو گئ اور پھروہ پوری قوت صرف کرکے اس سبزے کی طرف بڑھتے گۓ. جیسےجیسے وہ نزدیک پہنچےتو سبزہ درختوں میں بدلنے لگااور عمارتیں بھی نظر آئیں تووہ خوشی سے بے حال ھونے لگے.وہ تیزی سے کشتی کو ساحل پر لاۓ .ابھی انھوں نے پاؤں خشک زمین پر رکھے بھی نہیں تھے کہ پولیس اہلکاروں کی ایک بڑی تعدادنے انہیں گھیرلیااورپھرانہیں اسی بھوکی پیاسی حالت میں ہانکتے ھوۓ پولیس اسٹیشن لے گۓ.آسمان سے گرااورکجھورمیں اٹکا”سے بھی حالت بری ھوچکی تھی.پولیس اسٹیشن پہنچنے کے بعداندازہ ھواکہ مقامی پولیس،لوگ اوریہ کشتی کے سوارایک دوسرے کی زبان تک نھیں جانتے تھے.پھر آہستہ آہستہ انہیں اندازہ ھواکہ ان کاتعلق برماسے ھے (جسےمیانماربھی کہاجاتاھے.یہ لوگ برماکی حکومت کے ناقابل بیان مظالم سے تنگ آکرمحض اپنی جانیں بچانے کی خاطر ایک کشتی میں سوارھوکرملائیشیا جانے کے لیے نکلے تھے.انہیں جس طرح سمجھایاگیاکہ سورج کی فلاں رخ میں سفرکروگے توملائیشیاپہنچ جاؤ گے تووہ اس چکرمیں نکل پڑے ساحلوں پرجااترے اوربرماکی کھلی جیل سے نکل کر انڈونیشیاکی چھوٹی اورتنگ جیل میں پہنچ چکے تھے اورنجانے کب انکی یہاسے خلاصی ھوگی.جی ھاں،یہ وہی برمی مسلمان ھیں جہیں دنیا”روہینگیا”کہتی ھے.جس طرح یورپ میں آج بھی ترک ھونے کامطلب مسلمان ھوناھے،چین میں “ایغور”نسل سے تعلق کامطلب بھی مسلمان ھے،اسی طرح برمامیں “روہنگیا”ھونے کامطلب بھی مسلمان ھی ھے .برماکے صوبے جس کاپہلے نام ارکان اسلام کے نام پر مقامی لوگوں نے اراکان رکھاتھا،کچھ ہی عرصےپہلے بدل کرحکومت نے راکھینے(Rakhine)کردیاتھا.را کھینے میں بسنے والے یہ مسلمان بلاشک وشبہ دنیابھر میں سب سے مظلوم اوربے کس ومجبورانسان ھیں.ان کی بے کسی وبے بسی اورمظلومیت کاحال اس قدرخستہ ھےکہ اس کااعتراف اقوام متحدہ،ایمنسٹی انٹرنیشنل اورہیومن رائٹس واچ جیسے سوفیصدمغرب نواز اوراسلام دشمن ادارے بھی کرتے ھیں. ان لوگوں کی اس سے بڑی بے بسی اور کیاھوگی کہ ان01سے15لاکھ برمی روھینگیامسلمانوں کے پاس برماسمیت دنیاکے کسی ملک کی شہریت بھی نہیں کیونکہ انہیں برمااپنے شہری نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے بنگالی نسل کے لوگ کہتااور مار مار کراسی طرف دھکیلتاھے.تو دوسری طرف بنگلہ دیش بھی اس کو قطعا تسلیم نہیں کرتااوروہ بھی انہیں مار مار کرواپس بھیجتاھے.یوں یہ مسلمان چکی کے 2پاٹوں میں پس رھاھیں.یہ دنیاکی واحد انسانی نسل کی مخلوق ھےکہ جس کے پاس کوئی دستاویزی ثبوت اورکاغذات ھی نہیں .یہ نہ سرکاری یاپرائیویٹ ملام بھرتی ھوسکتےہیں،نہ ان کے بچے تعلیم حاصل کرسکتے ہیں،نہ کسی دوسرے ملک کاسفرکرسکتے ھیں.ان کو کوئی قتل کردے ،گھرجلادے،عزت لوٹ لے…..ان کامقدمہ درج ھی نہیں ھو سکتا.شکایت سنی ہی نہیں جاسکتی کیونکہ دنیاکے کسی کاغذاور ریکارڈ میں ان کانام تو سرے سے موجودھی نہیں کہ یہ کس ملک اورکس خطے یاعلاقے کے انسان ھیں.اسی لیے تو برماکے طاقتور ظالم بودھ جب چاھیں انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیتے ھیں لیکن کوئی ان سے معمولی باز پرس نھیں کرسکتا.یہی کچھ ان کے ساتھ اس سال ماہ جون کے آغاز میں ھوا.

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s